Saturday, 18 February 2017

Khalid Raza Naiyar

کافی میں نمک


کافی میں نمک
ایک پارٹی اپنے زوروں پر چل رہی تھی اور لڑکیاں لڑکے ڈانس کر رہے تھے کہ ایک لڑکا جو بہت دیر سے ایک ہی لڑکی کو دیکھ رہا تھا، اس نے دل میں فیصلہ کیا کہ پارٹی ختم ہوتے ہی اس لڑکی سے ضرور دوستی کرے گا۔ سب لڑکے اسے ہی دیکھ رہے تھے، وہ تھی ہی اتنی حسین۔ اس لڑکے کو پتہ تھا کہ نہ تو یہ خود سب سے امیر تھا نہ ہی سب سے خوبصورت تھا اور کوئی مشہور آدمی بھی نہیں تھا اور ایسی لڑکی جس کو سب ہی پسند کرتے تھے، اس لڑکے کی دوستی وہ لڑکی قبول کرتی، یہ کافی مشکل کام تھا۔ خیر پارٹی ختم ہوئی اور وہ لڑکی ایک طرف اٹھ کر چلی، یہ لڑکا فورا اس کے پیچھے بھاگا۔ اس کو روکا اور اس سے بولا کہ میرے ساتھ ایک کافی پی لو بس، پلیز۔ لڑکی نے اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور سوچا کہ اتنا عام سا لڑکا ہے لیکن کیونکہ وہ ایک بہت دھیمی اور نائس لڑکی تھی، اس نے لڑکے کو ہاں بول دیا۔
دونوں ایک ریسٹورنٹ میں گئے اور کافی کا آرڈر دے دیا۔ لڑکے کی کافی آئی تو اس نے ویٹر سے بولا کہ تھوڑا سا نمک لا دو۔ ویٹر نے حیرت سے بولا: سر کافی میں نمک ڈالیں گے؟ وہ بولا ہاں۔ خیر ویٹر نمک لے آیا، لڑکی بھی اس کو حیرت سے تک رہی تھی کہ کیا کرنے جا رہا ہے۔ اس نے کافی میں نمک ملایا اور پینے لگ گیا۔ لڑکی بولی کہ آپ کافی میں نمک کیوں ڈالتے ہو؟ وہ بولا کہ میں دراصل جس شہر کا ہوں وہ سمندر کے کنارے واقع ہے اور بچپن سے ادھر کی ہوا اور موسم میرے پسندیدہ ہیں۔ جب بھی میں سانس لیتا تھا تو مجھے سمندر کی مہک آتی تھی اور ایسے لگتا تھا جیسے سمندر کا نمکین پانی میرے ناک سے اندر جا کرمیرے منہ میں نمک کا ذائقہ دے رہا ہو۔ بس مجھے اپنا ھوم ٹاؤن بہت یاد آتا ہے، ماں باپ سارے لوگ بہت مس کرتا ہوں۔ لڑکی نے سوچا کہ یہ کتنا اچھا انسان ہے، عام سا ہے لیکن کتنا پیا ر کرنے والا اور اصل میں ایک حسین دل کا مالک ہے۔ آگے بھی کافی دن دونوں اسی طرح ملتے رہے اور لڑکی نے بھی اسے اپنے ماں باپ اور ہوم ٹاؤن کے بارے میں سب کچھ بتایا۔
آہستہ آہستہ لڑکی کو بھی اس سے پیار ہو گیا۔ دونوں نے شادی کر لی اور ایک بہت اچھی زندگی ساتھ میں بسر کی۔ جب لڑکے کا انتقال ہو گیا تو لڑکی نے اس کے بیڈ پر ایک خط دیکھا۔ وہ سمجھ گئی کہ اس کے گزشتہ خاوند نے لکھا ہو گا، اس نے اٹھایا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ لکھا تھا میری جان میں نے تم سے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا سوائے ایک دفعہ کے، جب ہم پہلی بار ملے تھے اور میں نے نمک کا کہہ دیا تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ میں تمہاری وجہ سے اس وقت اتنا ننروس تھا کہ چینی کے بجائے میں غلطی سے نمک کا بول بیٹھا پھر شرمندگی سے بچنے کے لیے نمک کے ساتھ ہی کافی پی گیا اور تمہیں اتنی بار بتانے کی کوشش کی کہ وہ جھوٹ تھا لیکن کبھی بھی ہمت ہی نہیں پڑتی تھی کیونکہ اگر میں تمہیں بتا دیتا تو تم مجھے چھوڑ دیتی لیکن میں اپنے دل پر اس جھوٹ کے بوجھ کے ساتھ مر نہیں سکتا تھا۔ سوری، ساٹھ سال ہماری شادی میں ہر کافی کا کپ جو تم نے مجھے دیا اس میں نمک ہوتا تھا اور میری ہمت نہیں پڑتی تھی کہ تمہیں بتاؤں کہ میرے سے غلطی ہو گئی تھی کیونکہ میں کسی بھی قیمت پرتمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔ حالانکہ کافی نمک کے ساتھ بہت بری لگتی تھی۔ آج بھی خط لکھتے ہوئے رو رہا ہوں، پلیز مجھے معاف کر دو۔لڑکی نے خط رکھا تو اس کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ کچھ دن بعد وہ کسی پارٹی میں تھی کہ کسی عورت نے اس سے پوچھا کہ کافی میں نمک کیسا ذائقہ دیتا ہے؟ وہ بولی بہت میٹھا۔۔بہت زیادہ میٹھا۔ سچ تو یہ ہے کہ محبت ایک مسکراہٹ سے شروع ہوتی ہے، ایک کس سے بڑھتی ہے اور اس کا اختتام ہمیشہ آنسوؤں پر ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ محبت کبھی بھی مرتی نہیں ہے، یہ تو اگلے جہان میں بھی ساتھ ساتھ چلے گی۔

Khalid Raza Naiyar

Khalid Raza Naiyar -