Saturday, 18 February 2017

Khalid Raza Naiyar

کافی میں نمک


کافی میں نمک
ایک پارٹی اپنے زوروں پر چل رہی تھی اور لڑکیاں لڑکے ڈانس کر رہے تھے کہ ایک لڑکا جو بہت دیر سے ایک ہی لڑکی کو دیکھ رہا تھا، اس نے دل میں فیصلہ کیا کہ پارٹی ختم ہوتے ہی اس لڑکی سے ضرور دوستی کرے گا۔ سب لڑکے اسے ہی دیکھ رہے تھے، وہ تھی ہی اتنی حسین۔ اس لڑکے کو پتہ تھا کہ نہ تو یہ خود سب سے امیر تھا نہ ہی سب سے خوبصورت تھا اور کوئی مشہور آدمی بھی نہیں تھا اور ایسی لڑکی جس کو سب ہی پسند کرتے تھے، اس لڑکے کی دوستی وہ لڑکی قبول کرتی، یہ کافی مشکل کام تھا۔ خیر پارٹی ختم ہوئی اور وہ لڑکی ایک طرف اٹھ کر چلی، یہ لڑکا فورا اس کے پیچھے بھاگا۔ اس کو روکا اور اس سے بولا کہ میرے ساتھ ایک کافی پی لو بس، پلیز۔ لڑکی نے اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور سوچا کہ اتنا عام سا لڑکا ہے لیکن کیونکہ وہ ایک بہت دھیمی اور نائس لڑکی تھی، اس نے لڑکے کو ہاں بول دیا۔
دونوں ایک ریسٹورنٹ میں گئے اور کافی کا آرڈر دے دیا۔ لڑکے کی کافی آئی تو اس نے ویٹر سے بولا کہ تھوڑا سا نمک لا دو۔ ویٹر نے حیرت سے بولا: سر کافی میں نمک ڈالیں گے؟ وہ بولا ہاں۔ خیر ویٹر نمک لے آیا، لڑکی بھی اس کو حیرت سے تک رہی تھی کہ کیا کرنے جا رہا ہے۔ اس نے کافی میں نمک ملایا اور پینے لگ گیا۔ لڑکی بولی کہ آپ کافی میں نمک کیوں ڈالتے ہو؟ وہ بولا کہ میں دراصل جس شہر کا ہوں وہ سمندر کے کنارے واقع ہے اور بچپن سے ادھر کی ہوا اور موسم میرے پسندیدہ ہیں۔ جب بھی میں سانس لیتا تھا تو مجھے سمندر کی مہک آتی تھی اور ایسے لگتا تھا جیسے سمندر کا نمکین پانی میرے ناک سے اندر جا کرمیرے منہ میں نمک کا ذائقہ دے رہا ہو۔ بس مجھے اپنا ھوم ٹاؤن بہت یاد آتا ہے، ماں باپ سارے لوگ بہت مس کرتا ہوں۔ لڑکی نے سوچا کہ یہ کتنا اچھا انسان ہے، عام سا ہے لیکن کتنا پیا ر کرنے والا اور اصل میں ایک حسین دل کا مالک ہے۔ آگے بھی کافی دن دونوں اسی طرح ملتے رہے اور لڑکی نے بھی اسے اپنے ماں باپ اور ہوم ٹاؤن کے بارے میں سب کچھ بتایا۔
آہستہ آہستہ لڑکی کو بھی اس سے پیار ہو گیا۔ دونوں نے شادی کر لی اور ایک بہت اچھی زندگی ساتھ میں بسر کی۔ جب لڑکے کا انتقال ہو گیا تو لڑکی نے اس کے بیڈ پر ایک خط دیکھا۔ وہ سمجھ گئی کہ اس کے گزشتہ خاوند نے لکھا ہو گا، اس نے اٹھایا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ لکھا تھا میری جان میں نے تم سے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا سوائے ایک دفعہ کے، جب ہم پہلی بار ملے تھے اور میں نے نمک کا کہہ دیا تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ میں تمہاری وجہ سے اس وقت اتنا ننروس تھا کہ چینی کے بجائے میں غلطی سے نمک کا بول بیٹھا پھر شرمندگی سے بچنے کے لیے نمک کے ساتھ ہی کافی پی گیا اور تمہیں اتنی بار بتانے کی کوشش کی کہ وہ جھوٹ تھا لیکن کبھی بھی ہمت ہی نہیں پڑتی تھی کیونکہ اگر میں تمہیں بتا دیتا تو تم مجھے چھوڑ دیتی لیکن میں اپنے دل پر اس جھوٹ کے بوجھ کے ساتھ مر نہیں سکتا تھا۔ سوری، ساٹھ سال ہماری شادی میں ہر کافی کا کپ جو تم نے مجھے دیا اس میں نمک ہوتا تھا اور میری ہمت نہیں پڑتی تھی کہ تمہیں بتاؤں کہ میرے سے غلطی ہو گئی تھی کیونکہ میں کسی بھی قیمت پرتمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔ حالانکہ کافی نمک کے ساتھ بہت بری لگتی تھی۔ آج بھی خط لکھتے ہوئے رو رہا ہوں، پلیز مجھے معاف کر دو۔لڑکی نے خط رکھا تو اس کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ کچھ دن بعد وہ کسی پارٹی میں تھی کہ کسی عورت نے اس سے پوچھا کہ کافی میں نمک کیسا ذائقہ دیتا ہے؟ وہ بولی بہت میٹھا۔۔بہت زیادہ میٹھا۔ سچ تو یہ ہے کہ محبت ایک مسکراہٹ سے شروع ہوتی ہے، ایک کس سے بڑھتی ہے اور اس کا اختتام ہمیشہ آنسوؤں پر ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ محبت کبھی بھی مرتی نہیں ہے، یہ تو اگلے جہان میں بھی ساتھ ساتھ چلے گی۔
مزید پڑھیں
Khalid Raza Naiyar

یزید بن عبدالمالک کا دور حکومت تاریخ اسلام


یزید بن عبدالمالک کا دور حکومت
(تاریخ اسلام)

دورِ حکومت: 720 ء تا 724ء
تخت نشینی
حضرت عمر بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد یزید بن عبدالملک تخت نشین ہوا۔ یہ ایک اوباش اور عیاش طبع انسان تھا۔ عمر بن عبدالعزیز ، سلیمان بن عبدالملک کی وصیت کو کالعدم قرار دے کر یزید کی نامزدگی کو ختم نہ کر سکے تاہم وفات سے قبل بلا کر اسے عدل و انصاف سے حکمرانی کرنے کی تلقین کی۔ لیکن اس کا جذبہ عیاسی عیاشی عود کر آیا اور عمر ثانی کی وفات کے چالیس روز بعد ہی ان کی جاری کردہ تمام اصلاحات کا دوبارہ خاتمہ کرکے وہی پرانا نظام دوبارہ نافذ کر دیا۔ اس کے عہد حکومت میں مضری اور حمیری آویزش دوبارہ زندہ ہوئی ۔ اور اسی باہمی کش مکش کی بدولت بنو امیہ کا زوال قریب سے قریب تر ہوگیا۔
یزید بن مہلب کی بغاوت
بنو امیہ کے زمانہ میں آل مہلب کو کافی عروج حاصل ہوا۔ خلیفہ سلیمان کے زمانہ میں یزید بن مہلب خراسان کی ولایت پر مامور تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے بیت المال کی رقم میں خردبرد کے الزام میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا۔ یزید کا تعلق حمیری قبیلہ سے تھا۔ یہ اپنے ایام اقتدار میں حجاج کے خاندان کے ساتھ سختی سے پیش آیا تھا۔ یزید بن عبدالملک چونکہ مضری قبیلہ کا ہمنوا تھا۔ اس لیے یزید بن مہلب کو اپنی زندگی خطرہ میں نظر آئی چنانچہ عراق پہنچ کر اپنے بھائی کی مدد سے بغاوت کر دی۔ خلیفہ یزید ثانی نے مسلمہ بن عبدالملک اور عباس بن ولید کی ماتحتی میں مقابلہ کے لیے فوج روانہ کی دونوں فوجوں کا آمنا سامنا انبار کے مقام پر ہوا ۔ امویوں نے دریائے فرات کے پل کو آگ لگا دی ۔ مہلب کی سپاہ میں افراتفری مچ گئی اور وہ میدان سے بھاگ گئے۔ ابن مہلب مارا گیا۔ اس کے دوسرے بھائی بھی یکے بعد دیگرے مارے گئے اور اس طرح آل مہلب کی خوفناک بغاوت کا خاتمہ ہوگیا۔
اس بغاوت کے نتیجے اور آل مہلب کے قتل کے نتائج بڑے دور رس تھے۔ اس واقعہ نے بنو امیہ کی تاریخ کے رخ کو تباہی اور زوال کی طرف موڑ دیا۔ مضری اور حمیری (مینی) عربوں کی قدیم کش مکش نے دوبارہ سپین ، شمالی افریقہ ، سندھ اور خراسان وغیرہ میں جنم لیا۔ اس باہمی عداوت اور قبائلی عصبیت کی بدولت ان ملکوں کے حالات بد سے بدتر صورت اختیار کر گئے اور دشمنان اسلام کو کامیابی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ بالاخر ملک کے اندر ایک خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی جس سے فائدہ اٹھا کر بنو عباس نے اموی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
مزید بغاوتیں
یزید ثانی ایک نااہل حکمران تھا۔ چنانچہ اس کے عہد حکومت میں قبائلی تعصبات کے علاوہ خوارج اور دیگر مخالفین نے سر اٹھانے کی کوششیں کیں۔ آل مہلب کے زوال کے بعد یزید ثانی نے عراق کی ولایت مسلمہ بن عبدالملک کے سپرد کی۔ مسلمہ نے اپنے داماد سعید بن عبدالعزیز کو خراسان کا کا والی مقرر کیا۔ یہ بھی عیش پسند اور کمزور حکمران تھا اس کی کمزوری اور بزدلی سے فائدہ اٹھا کرچند ترک اور سعدی قبائل آمادہ بغاوت ہوئے۔ ترکوں نے بڑھ کر قصر باہلی کا محاصرہ کر لیا ۔ والی سمرقند عثمان بن عبداللہ بن مسیب بن بشیر رحاحی کو ترکوں کے مقابلہ پر فوج دے کر روانہ کیا۔ مسیب نے بڑی شدت سے ترکوں پر ہلہ بول دیا اور وہ محاصرہ اٹھا کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
اس کے بعد مسلمانوں نے سغدیوں کا تعاقب کیا کیونکہ انھوں نے قصر باہلی کے محاصرہ کے دوران ترکوں کی مدد کی تھی ۔ اس دوران سعید بن عبدالعزیز کو برخاست کرکے سعید بن ہیرہ کو خراسان کا والی بنا دیا گیا۔ اس نے انتہائی چابکدستی کے ساتھ ان کی طاقت کا قلع قمع کر دیا اور کش اور نسف کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔
اس دوران 104ھ میں آذربائیجان کے علاوہ میں بغاوت کی آگ پھیل گئی ۔ خزر ، قچاق اور اومن قبائل نے متحد ہو کر مسلمانوں کو شکست دی۔ یزید کو یہ حالات معلوم ہوئے تو جراح بن عبداللہ حکمی کو آرمینیہ کا حاکم مقرر کیا اور شام سے امدادی فوج روانہ کی۔ ابھی متحارب گروہوں میں کش مکش جاری تھی کہ یزید ثانی کا انتقال ہوا اور ان مہمات کی تکمیل ہشام کے زمانہ میں ہوئی ۔ ان فتوحات کے علاوہ روم میں عباس بن ولید نے 103ھ ، 726ء میں ولم اور مروان بن محمد نے قونیہ فتح کئے خوارج نے بھی شورش برپا کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔
وفات
جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے یزید ثانی انتہائی عیاش اور نااہل حکمران تھا وہ اپنی دو داشتاؤں حبابہ اور سلامہ کے عشق میں اندھا ہو چکا تھا۔ ملکی معاملات تباہی سے دوچار تھے ۔ لیکن اسے اپنی نشاط کی محفلوں سے غرض تھی ۔ ایک دن وہ اپنی محبوبہ حبابہ کے ساتھ باغ میں داد عیش دے رہا تھا کہ ازراہ مذاق اس نے ایک گھٹلی حبابہ کے منہ میں پھینکی جو اتفاق سے اس کے حلق میں اٹک کر رہ گئی جس کی بنا پر اس کی موت واقع ہو گئی ۔یزید ثانی پر اس ناگہانی حادثہ کا بے حد اثر ہوا اور وہ تین دن تک اس کے لاش سے لپٹے روتا رہا۔ بڑی مشکل سے جدا کیا گیا لیکن وہ اس صدمہ جانکاہ سے بچ نہ سکا اور ایک ہفتہ بعد خود بھی راہئی ملک عدم ہوا۔
مجموعی جائزہ
یزید ثانی کا دور بنوامیہ کا بدترین دور تھا۔ اس دور میں بنو امیہ کے زوال کا آغاز ہوا۔ تمام مملکت اس کی سیاہ کاریوں اور نااہلی سے متاثر تھی۔ لوگ معاشرتی برائیوں سے تنگ آکر صدائے احتجاج بلند کر رہے تھے ۔ ہر طرف ابتری اور ذہنی انتشار کا دور دورہ تھا۔ اس دور میں عباسی دعوت اور پراپیگینڈہ کا آغاز ہوا امیر معاویہ کی بادشاہت یزید کے جور و جفا ، امام حسین کی شہادت ، حجاج کا ظلم و ستم ، عرب اور غیر عرب کا فرق ، نومسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مضری اور حمیری کشمکش ایسے واقعات تھے جو بنوامیہ کے خاتمہ کی ہر جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بہترین فضا مہیا کر رہے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی کوشش کی لیکن یزید ثانی کی ناہلیت اور کوتاہ اندیشی کی بدولت بنو عباس کی کامیابی کے امکان روشن سے روشن تر ہوگئے اور چند ہی برس بعد اموی خلافت کی بساط لپیٹ دی...
مزید پڑھیں
Khalid Raza Naiyar

مشہور سنار


شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے
کوئی بھی آ جائے‘ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دلہے کے والدین باہر موجود ہیں‘دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا باوجود اس کے کہ دلہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا.والدین ناکام واپس لوٹ گئے‘ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دلہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں‘ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں‘ دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا‘باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی...
نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فوراً دروازہ کھول دیا‘شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نہ کہا خاموش رہا‘اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی‘شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں‘اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا‘شوہر مسکرایا اور بولا’’یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی‘‘
مزید پڑھیں
Khalid Raza Naiyar

یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی


شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے
کوئی بھی آ جائے‘ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دلہے کے والدین باہر موجود ہیں‘دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا باوجود اس کے کہ دلہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا.والدین ناکام واپس لوٹ گئے‘ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دلہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں‘ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں‘ دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا‘باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی...
نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فوراً دروازہ کھول دیا‘شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نہ کہا خاموش رہا‘اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی‘شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں‘اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا‘شوہر مسکرایا اور بولا’’یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی‘‘
مزید پڑھیں

Saturday, 28 January 2017

Khalid Raza Naiyar

امریکی ہوائی اڈے پر پناہ گزین زیرِ حراست


انسانی حقوق کے گروہوں نے نیویارک کی ایک عدالت میں ان پناہ گزینوں کو رہا کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے جنہیں جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر چھ مسلمان ممالک کے باشندوں کا امریکہ میں 90 دن تک داخلہ بند ہے۔
اس حکم نامے پر عملدرآمد کا طریقۂ کار تاحال واضح نہیں ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس پابندی کے فوری نفاذ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پناہ گزین پروگرام معطل کرتے ہوئے شام سے آنے والے پناہ گزینوں پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے، جس کا مقصد 'انتہا پسند مسلمان دہشت گردوں' کا امریکہ میں داخلہ روکنا ہے۔


نیویارک میں دو عراقی پناہ گزینوں کو حرسات میں لیا گیا ہے جن میں سے ایک امریکی فوج کے ساتھ مترجم کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہ لوگ جمعے کو ہوائی اڈے کے ٹرانسٹ حصے میں تھے جس وقت اس حکم نامے پر دستخط کیے گئے اور انہیں وہیں روک دیا گیا۔
مزید پڑھیں
Khalid Raza Naiyar

پاکستان میں 19 سال بعد مردم شماری کا آغاز رواں سال مارچ کے وسط سے ہو گا۔


پاکستان میں رواں سال مارچ میں ہونے والی مردم شماری کے لیے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے لگ بھگ دو لاکھ فوجی اہلکار تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ یہ فوجی گھروں اور افراد کے شمار کی مہم کے دوران مدد فراہم کریں گے۔
پاکستان میں 19 سال بعد مردم شماری کا آغاز رواں سال مارچ کے وسط سے ہو گا۔
حکام کے مطابق مردم شماری اور خانہ شماری کا عمل ایک ساتھ شروع کیا جائے گا اور اس کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔
ملک کے قواعد کے مطابق ہر 10 سال بعد مردم شماری کا انعقاد ہونا چاہیئے، آخری بار پاکستان میں مردم شماری 1998ء میں کی گئی تھی۔
پاکستان میں چھٹی مردم شماری کا انعقاد 2008ء میں ہونا تھا تاہم ملک میں سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی مخدوش صورتِ حال کے باعث اس کا انعقاد مسلسل موخر کیا جاتا رہا۔
اقتصادی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مردم شماری نا صرف ملک میں موثر اقتصادی منصوبہ سازی کے لیے ضروری ہے بلکہ ملک کی پارلیمان اور دیگر منتخب عوامی اداروں میں عوام کی نمائندگی کے لیے بھی اسے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
پاکستانی عہدیداروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کے مختلف شعبوں کے بارے میں حکمت عملی یا منصوبہ سازی کی تیاری آبادی کے اندازے کے مطابق کی جاتی ہے اور جب نئی مردم شماری کے بعد آبادی کے بارے میں درست اعداد و شمار دستیاب ہوں گے تو ایک جامع منصوبہ بندی ممکن ہو سکے۔
مارچ کے وسط میں ہونے والی مردم شماری میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کا شمار بھی کیا جائے گا اور اس بارے میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ بھی سنایا ہے۔
گزشتہ سال لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ ماضی میں جتنی مرتبہ بھی مردم شماری ہوئی خواجہ سراؤں کی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا، جس پر عدالت عالیہ نے وفاقی حکومت سے جواب مانگا تھا اور اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ آئندہ مردم شماری میں خواجہ سراؤں کے اعدادوشمار بھی اکٹھے کیے جائیں۔
مزید پڑھیں

Thursday, 29 December 2016

Khalid Raza Naiyar

This Blog Is Under Maintenance


مزید پڑھیں